Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Mahmood Khan Chairing a progress review meeting on New Peshawar Valley Project


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبے کے اہم رہائشی منصوبے نیو پشاور ویلی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس گزشتہ روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کو منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت اور جاری اقدامات کی تکمیل کیلئے مجوزہ ٹائم لائنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ لینڈ شیئرنگ فارمولہ کے تحت زمین مالکان کیلئے پلاٹس کے انٹیمیشن لیٹرز تیار ہیں۔ منصوبے کے سائٹ آفس کیلئے اگلے تین چارروز کے اندر مناسب جگہ کی نشاندہی کر لی جائے گی جبکہ سائٹ آفس کی تعمیر کیلئے پی سی ون بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ سائٹ آفس کا قیام اور سیکیورٹی کیلئے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی ایک ساتھ عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اب تک موصول شدہ اراضی میں سے 13898کنال اراضی کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے منصوبے پر تیز رفتارعملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکا م کو ہدایت کی کہ منصوبے کیلئے فی الوقت عارضی طور پر سائٹ آفس کا انتظام کیا جائے اور سیکیورٹی کیلئے پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بھی یقینی بنائی جائے تاہم مستقل سائٹ آفس کی تعمیر کا عمل بھی تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ رواں ماہ کی 25 تاریخ تک زمین مالکان کو انٹیمیشن لیٹرزبھی جاری کر دئیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم منصوبے پر عملدرآمد صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے جس کے لئے تمام امور اور اقدامات کو ٹائم لائنز کے اندر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ بعد ازاں اجلاس میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بعض اہم امور کا بھی جائزہ لیا گیا خصوصی طور پر حیات آباد میں صفائی ستھرائی ، شجر کاری، سیکیورٹی اور دیگر اہم امور سے متعلق مجوزہ لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پی ڈی اے کو ہدایت کی گئی کہ متعلقہ حکام کے ساتھ ملکر اندرون حیات آباد اور یونیورسٹی روڈ پر شجر کاری اور گرین بیلٹ وغیرہ کیلئے مناسب جگہوں کی نشاندہی کرے۔ اس موقع پر حیات آباد Phase-V کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حیات آباد Phase-V سیف سٹی پراجیکٹ میں شامل ہے ۔ سیف سٹی منصوبے پر عملدرآمد کا آغازحیات آباد سے ہی بطور پائلٹ پراجیکٹ کیا جائے گا تاہم وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر حیات آباد میں کسی جگہ فینسنگ یا گیٹ وغیرہ کی فوری ضرورت ہے تو اس سلسلے میں پلان تیار کرکے پیش کیا جائے۔ محمود خان نے اس موقع پر بی آر ٹی کے کوریڈور کے ساتھ خالی جگہوں اور دیگر دستیاب مقامات پر بھی شجرکاری کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ اس مقصد کیلئے ایسے پودوں کا انتخاب کیا جائے جو دیر پا ہوںاور تناور درخت بن سکیں ۔ اس سے نا صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔ وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف،ایڈیشنل چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ اور وزیراعلی کے سپیشل سیکرٹری مسعود یونس کے علاوہ کمشنر پشاور،سی سی پی او پشاور اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے نے اجلاس میں شرکت کی

Share On: